Posts

Location of the Arabs

Image
  Beyond a shadow of doubt, the biography of Prophet Muhammad (phub) manifested represents an exhaustive embodiment of the sublime Divine Message that he communicated in order to deliver the human race from the swamp of darkness and polytheism to the paradise of light and monotheism. An image, authentic as well as comprehensive, of this Message is therefore only attainable through careful study and profound analysis of both backgrounds and issues of such a biography. In view of this, a whole chapter is here introduced about the nature and development of Arab tribes prior to Islam as well as the circumstantial environment that enwrapped the Prophet's mission. Location of the Arabs Linguistically, the word "Arab" means deserts and waste barren land well-nigh waterless and treeless. Ever since the dawn of history, the Arabian Peninsula and its people have been called as such. The Arabian Peninsula is enclosed in the west by the Red Sea and Sinai, in the east by the Arabian G...

آپ نے مسجد کیوں چھوڑ دی؟

Image
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين          آپ نے مسجد کیوں چھوڑ دی؟ *ازقلم:عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمی محمدی مہسلہ*                         مسجد اللہ کا گھر ہے، اللہ کے نزدیک اس روئے زمین کی سب سے پاکیزہ اور سب سے پیاری جگہ مسجد ہے، سوچیے دنیا میں ہزاروں اور کھربوں کی تعداد میں بڑے بڑے محلات ہوں گے، شاہی حویلیاں ہوں گی، شیش محل ہوں گے، عمدہ و حسین گھر ہوں گے، عجوبہ مکانات ہوں گے، مگر وہ سب پیارے نہیں ہیں، مسجد اللہ کو پیاری ہے چاہے وہ جیسی بھی ہو، چھپر کی ہو، لکڑی کی ہو، چھت نما ہو، چھوٹی ہو، بڑی ہو، یقیناً بڑا خوش نصیب ہے وہ انسان جس کا قدم مسجد کی طرف بڑھتا ہے، مسجد سے قریب رہتا ہے اور بڑا بدنصیب ہے وہ انسان جو مسجد سے بھاگتا ہے، باجماعت مسجد میں نماز نہیں ادا کرتا ہے، مسجد سے دشمنی کرتا ہے، جہالت کی انتہاء ہے کہ آدمی اپنی مسجد چھوڑ دے اور گھر میں نماز پڑھے، اسلام میں اجتماعیت ہے، باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت بھی ہے، تاکید بھی ہے اور جماعت چھوڑنے پر وعید بھی ہے، بعض علماء نے یہاں تک کہا ہے...

کیا ووٹ دینا ناجائز کام ہے؟

Image
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين                   کیا ووٹ دینا ناجائز کام ہے؟ *ازقلم:عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمی محمدی مہسلہ*                           اس وقت ملک ہندوستان میں انتخابات جدید کی لہر دوڑ رہی ہے، ابھی دو دن قبل ہر پارٹی کے امیدوار ریلی اور مظاہرے میں سرگرم تھے، لیکن اب گیارہ مئی سے الیکشن شروع ہوچکا ہے، ووٹنگ کا یہ سلسلہ پورے  ملک میں ایک ماہ تک جاری وساری رہے گا، ضرورت ہے کہ جملہ باشندگان ہند اس حساس وقت میں سیاسی بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے روشن مستقبل کا انتخاب کریں، متحد ہو کر اس پارٹی کو ووٹ دیں جو قوم کا خیرخواہ ہو، درد مند ہو، غیرت مند ہو، قیادت کے لائق ہو، غریبوں کا ہمدرد ہو-      قارئین کرام! بعض کج فہم اور احمق لوگ یہ کہتے ہیں کہ ووٹ دینا درست نہیں ہے، کیونکہ ہم ووٹ ڈال کر غیروں اور مشرکوں کی حمایت کر رہے ہیں، میرے بھائی ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہ جمہوری ملک ہے، اس ملک میں ووٹ دینا ناجائز نہیں ہے بلکہ ہر فرد پر ووٹ دینا...

خود کشی کے اسباب اور سدباب

Image
          خود کشی کے اسباب اور سدباب *ازقلم:عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ*       خود کشی ایک نہایت بدترین جرم ہے، خود کشی اسلامی شریعت میں بہت بڑا گناہ ہے، خود کشی جہنم میں لے جانے والا عمل ہے، لہذا اس گناہ سے بہت دور رہنا چاہیے، خود کشی سے بچنا تو بہت دور کی بات اس کے متعلق سوچنا بھی نہیں چاہیے، کیونکہ خودکشی کوئی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ یہ خود ایک مسئلہ ہے، دیکھیے صاف حدیث میں ہے کہ خود کشی کرنے والا شخص جیسے دنیا میں اپنی جان ہلاک کرتا ہے بعینہ اسی وہ طرح مرنے کے بعد بھی اپنی جان ہلاک کرتا ہے، آخرت کا یہی عذاب اسے دیا جائے گا (صحیح بخاری:5778)    قارئین کرام! آدمی خود کشی کیوں کرتا ہے؟ اس کے اسباب وعوامل کیا ہیں؟ آئیے آج ہم انہیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہم ان اسباب سے دور رہ کر خود کشی کی لعنت سے بچ سکیں، خوش حال زندگی گزار کرسکیں اور اللہ کا نیک بندہ بن سکیں، اللہ تعالٰی ہمیں اس کی توفیق دے آمین-                     *خود کشی کے اسباب* اول) ایمان باللہ، ایمان ...

اہل جنت کی باہم گفتگو

Image
             اہل جنت کی باہم گفتگو *ازقلم:عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ*       جنتی لوگ جنت میں باہم اپنے دوست، احباب، رشتہ دار، قرابت دار سے ملاقات کریں گے، ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے، خوب مزے لے لے کر باتیں کریں گے، دنیا کی پر مشقت زندگی کو یاد کر کے ملی جنت پر رب العالمین کا خوب شکر ادا کریں گے، عالیشان مسندوں، سجے تختوں اور نفیس وعمدہ فرشوں پر تکیے لگائے جلوہ افروز ہوں گے، میل ومحبت کا اظہار کریں گے، وہاں کسی سے دل میں کوئی بغض، نفرت، کینہ، کپٹ اور مار پیٹ کا کوئی تصور نہیں ہوگا، بلکہ اہل جنت بالکل آمنے سامنے بھائی کی طرح بیٹھ کر باہم گفتگو کریں گے، اللہ تعالٰی فرماتا ہے، "وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ"(الحجر:47) اُن کے دلوں میں جو تھوڑا بہت کھوٹ، کینہ کپٹ ہو گا اسے ہم نکال دیں گے، وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر بالکل آمنے سامنے تختوں پر بیٹھیں گے۔        اہل جنت کی گفتگو میں ہمیشہ پاکیزگی کی جھلک ہوگی، وہاں کوئی گناہ اور لغو بات کا نام ونش...

Alcohol prohibited in Islam

Image
CAN A MUSLIM  DRINK ALCOHOL? When a European Airline was initially launched, a PRACTICING MUSLIM  gentleman was traveling in the first class section. An air hostess approached him with a complimentary drink, this was an alcoholic drink, but the man politely refused.The air hostess returned but this time brought the drink on a platter, designed to appeal and impress. However, the MUSLIM man again politely refused, explaining he doesn't drink alcohol.The air hostess was concerned and informed the manager. The manager approached the man with another platter, now designed with flowers. He questioned, “Is there something wrong with our service? Please enjoy the drink, it is a complimentary offer.” The man replied, “I am a MUSLIM and I do not drink alcohol? The manager still insisted that the man take the drink. Then, the MUSLIM  proposed that the manager should give the drink to the pilot first. The manager stated, “How can the pilot drink alcohol, he’s on duty! And if...

محبت کرنے کے تین بنیادی اسباب

Image
*فطری طور پر کسی سے محبت کرنے کے تین بنیادی اسباب ہوتے ہیں، اول: جَمال (خوبصورتی) دوم: کمال (ہنر، فن، کارنامہ) سوم: نَوال (جود وسخاوت، داد ودہش، ہدایا وتحائف دینا) پیارے نبی کے اندر یہ تینوں اوصاف بدرجہ اتم پائے جاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کا ہر انصاف پسند انسان آپ سے محبت کرتا ہے، حتی کہ نان مسلم کی اکثریت بھی آپ کو چاہتی ہے، یہ ایسی سچائی ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے، میں کہتا ہوں کہ رسول کی مبارک اور پاکیزہ سیرت کو غیروں نے بھی اجاگر کیا ہے، کتابیں لکھی ہیں، قصیدے کہے ہیں*(مستفاد از خطبات استاد محترم شیخ عبدالحسیب مدنی حفظہ اللہ) عبیداللہ شفیق الرحمٰن اعظمی محمدی مہسلہ  29/11/2018

مومن کا مرتبہ

Image
📌قال خلف بن هشام - رحمه الله - (أحد القرّاء العشرة) : أتيت سليم بن عيسى لأقرأ عليه ، فكنت أقرأ عليه حتى بلغت يوماً سورة غافر فلما بلغت إلى قوله تعالى:  ﴿ وَيَسْتَغْفِرُ‌ونَ لِلَّذِينَ ءآمَنُوا ﴾ بكى بكاءً شديداً ، ثم قال لي:  يا خلف ألا ترى ما أعظم حق المؤمن؟  تراه نائماً على فراشه  والملائكة يستغفرون له . 📚[ وفيات الأعيان: 242/2 ].      بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين       *خلف بن ہشام رحمہ اللہ مشہور قراء عشرہ میں سے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں سلیم بن عیسی کے پاس پڑھنے آیا، تو میں ان کو سنانے لگا یہاں تک کہ میں ایک دن سورہ غافر تک پہنچ گیا پس جب میں اس آیت کریمہ پر پہنچا، "وَيَسْتَغْفِرُ‌ونَ لِلَّذِينَ ءآمَنُوا" کہ وہ فرشتے اہل ایمان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، تو اس پر وہ بہت زیادہ آبدیدہ ہوئے یعنی خوب آنسو بہائے، پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ اے خلف بن ہشام کیا تم دیکھتے نہیں کہ مومن کا مرتبہ کتنا بلند وبالا ہے، تم تو اس مومن کو بستر پر سویا ہوا پاتے ہو مگر اس کے لیے اللہ کی معصوم نوری مخلوق فرشتے رحمت ومغفرت کی دعائیں ...

لڑکیوں کی وراثت ڈکارنے والے حرام خور

Image
لڑکیوں کی وراثت ڈکارنے والے حرام خور تحریر: شمس الرب خان ====== تحریر کا عنوان کچھ زیادہ ہی سخت ہے؟ مجھے بھی معلوم ہے! لیکن میں نے جان بوجھ کر یہ عنوان لگایا ہے کیونکہ کبھی کبھی کچھ خبیث عادتیں اس طرح پختہ ہوجاتی ہیں کہ نرم لہجے کام ہی نہیں کرتے۔ دوسری بات یہ کہ اگرچہ عنوان سخت ہے لیکن سچ ہے۔ اور سچ سخت نہیں ہوتا۔ ہمارے اندر کا شیطان اسے سخت محسوس کراتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ جب حرام خوری کر رہے ہیں تو حرام خور ہی کہا جائے گا، نا! حرام خوری بند کردیں، کوئی نہیں کہے گا۔ دیکھیے، یہ ہم سب کو معلوم ہے کہ ہمارے سماج میں لڑکیوں کو ان کے حق وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ باپ کی جائیداد کے بٹوارے کے وقت صرف لڑکوں کا حصہ ہی لگایا جاتا ہے اور لڑکیوں کو پھوٹی کوڑی بھی نہیں دی جاتی۔ یہ اسلامی شریعت کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے اور اللہ و رسول کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گناہ عظیم میں عوام تو عوام علماء بھی ملوث ہیں۔ ہاں، یقینا سماج میں اللہ کے کچھ برگزیدہ بندے اب بھی ہیں جو وراثت میں لڑکیوں کو ان کا حق دیتے ہیں، لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور وہ مستثنی کے درجے...

حضرت حسین رضی اللہ عنہ

Image
حضرت حسین رضی اللہ عنہ        حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سنگین قتل ہر مسلمان کے لیے قابل غم اور تکلیف کا باعث ضرور ہے، کیونکہ وہ مسلمانوں کے سپہ سالار، علماء صحابہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی افضل بیٹی کے بیٹے یعنی آپ کے نواسے تھے، حسین بہت بڑے عابد، شجاع اور بہت بڑے سخی وفیاض تھے-     لیکن جیسے شیعہ اور روافض غم مناتے ہیں، نوحہ وماتم کرتے ہیں، اپنے غم کا بدترین طریقے سے اظہار کرتے ہیں یہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے، اس میں اکثر وہ مکاری اور ریاکاری کا ثبوت پیش کرتے ہیں، حسین کے نام پر نوحہ وماتم جائز نہیں ہے کیونکہ حسین کے ابو علی بن ابی طالب حسین سے افضل تھے، وہ سترہ رمضان چالیس ہجری کو کوفہ میں شہید کر دیے گئے جب کہ وہ نماز فجر کے لیے مسجد جا رہے تھے، مگر شیعوں نے ان کا ماتم کبھی نہیں کیا، اسی طرح عثمان رضی اللہ عنہ اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک تو علی رضی اللہ عنہ سے بہتر ہیں، ان کو بڑی بےدردی سے گھر میں گھیر کر شہید کردیا گیا، یہ واقعہ ذوالحجہ ایام تشریق سنہ چھتیس ہجری کا ہے، مگر ان کا بھی ماتم نہیں کیا گیا، اسی طرح عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہید...

مسلمانوں جاگو کسی بھی چیز کو آگے بھیجنے سے پہلے

مسلمانوں جاگو کفارِ قریش نے بہت سے گالیوں سے بھرے اشعار لکھے.. جن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرنے کی کوشش کی گئی تھی.. مگر وہ اشعار ہم تک نہیں پہنچے.. کـــــیوں؟؟ کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے وہ شعر.. نا ہی یاد کیئے.. اور نا ہی آپس میں شیئر کیئے. اس طرح سے وہ سارے اشعار فنا ہو گئے. 🌿🌿🌿🌿🌿🌿 ﺁﺝ ﮐﻞ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ.. ﮔﺴﺘﺎﺧﺎﻧﮧ ﻣﻮﺍﺩ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﻔﺎﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﮭﯿﻼ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ.. اور وہ یوں کہ: ﮐﻔﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﮔﺴﺘﺎﺧﺎﻧﮧ خاکہ یا ﺗﺼﻮﯾﺮ بناتے ہیں.. پھر اس ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﺩیتے ہیں ﮐﮧ: "لکھنے یا بنانے والے پہ ﻟﻌﻨﺖ بھیج ﮐﺮ ﺁﮔﮯ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﺮﯾﮟ"۔ ﺍﺏ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺧﺘﻢ اور مسلمانوں کا شروع ہو جاتا ہے.. اس کے بعد ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻟﻌﻨﺖ بھیجنے ﮐﮯ ﭼﮑﺮ میں ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮتے ہیں ﮐﮧ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺗﮏ ﯾﮧ ﮔﺴﺘﺎﺧﺎﻧﮧ ﻣﻮﺍﺩ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎتا ہے۔ 🌿🌿🌿🌿🌿🌿 حـــــــــــــل: کوئی بھی ﮔﺴﺘﺎﺧﺎﻧﮧ ﺧﺎﮐﮧ ﯾﺎ تصویر یا ﻓﻠﻢ ﮐﺎ ﭨﮑﮍﺍ.. ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﺁﭖ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ..!! ﺗﻮ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ.. صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقشِ قدم پر چلیں.. بغیر دیکھے بغیر ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺷﯿﺌﺮ ک...

بغير ولی کے شادی نہیں ہوسکتی ہے

          *بغير ولی کے شادی نہیں ہوسکتی ہے *ازقلم:عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ              شادی نفس کی اہم ترین ضرورت ہے، بغیر شادی کے انسان ناقص اور اس کی زندگی بےسود ہے، شادی نفس اور قلب وجگر کی تسکین کا باعث ہے، شادی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، شادی انبیاء کی سنت ہے، شادی سے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے، شرم گاہ کی حفاظت ہوتی ہے، شادی خیر وبرکت کی سواری ہے، الغرض شادی کی اتنی زیادہ اہمیت اور افادیت ہے جس کا کوئی منکر نہیں ہے-        مگر یہ بات یاد رہے کہ ہر شادی خیر وعافیت کا مظہر نہیں بنتی ہے، وہی شادی خیر وبرکت کا باعث ہے جس میں کم خرچ ہو، شادی کا حقیقی لطف اور مزا اسی وقت ہے جب نکاح شرعی طریقے کے مطابق ہو-       سوال یہ ہے کہ شرعی نکاح کیسے ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ولی اور گواہوں کی موجودگی میں دلہے سے مع مہر ایجاب وقبول کرانے کا نام نکاح ہے، نکاح میں ولی کا ہونا شرط ہے، بغیر ولی کے نکاح نہیں ہوگا، اسلامی شریعت میں ولی کے بغیر نکاح شرعی کا کوئی تصور نہیں ہے، جو شخص کسی لڑک...

عید کے موقع پر لڑکیوں سے گلے ملنا کیسا ہے؟

*عید کے موقع پر لڑکیوں سے گلے ملنا کیسا ہے؟ *ازقلم:عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ*      بغل گیر ہونے، گلے ملنے کو عربی میں معانقہ کہتے ہیں، معانقہ یہ عنق سے ماخوذ ہے، عنق عربی میں گردن کو کہتے ہیں چونکہ گلے ملنے میں گردن گردن سے ملتی ہے، اس لیے معانقہ سے تعبیر کیا گیا ہے، معانقہ، مصافحہ اور سلام یہ تینوں مسنون عمل ہے، سلام اور مصافحہ تو ملتے جلتے وقت کبھی بھی کر سکتے ہیں، لیکن معانقہ یہ سفر کی واپسی پر پہلی ملاقات کے وقت ہے، اس کے علاوہ عام دنوں میں یا عیدین اور جمعہ کی خوشی میں معانقہ کرنا سنت اور اسلاف امت سے ثابت نہیں ہے، مرد مرد سے مصافحہ کرے، اس سے بغل گیر ہو، عورت عورت سے مصافحہ کرے آپس میں گلے ملے، یہ جائز ہے، لیکن کسی اجنبی مرد کا کسی اجنبی عورت سے یا اجنبی عورت کا کسی اجنبی مرد سے مصافحہ اور معانقہ کرنا جائز نہیں ہے، یہ نہایت گندہ اور فحش کام ہے، زنا اور بےحیائی میں داخل کرنے والا عمل ہے، شریعت مطہرہ میں عورت کو اجنبی مرد سے اور مرد کو اجنبی عورت سے آپس میں پردہ کرنے اور نگاہ جھکانے کا حکم دیا ہے، اور آپس میں بات چیت کرنے، تانک جھانک کرنے، نظر...

جماعت چھوڑ کر فجر کی سنت پڑھنا صحیح ہے؟

 جماعت چھوڑ کر فجر کی سنت پڑھنا صحیح ہے؟ بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين *ازقلم:عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمی محمدی مہسلہ*          نوافل کی پابندی ایک مستحسن اور پسندیدہ عمل ہے، اللہ کا تقرب حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے، کل قیامت کے دن یہ نوافل فرائض کا متبادل ہو جائیں گے، سنن ونوافل میں سب سے افضل قیام اللیل یعنی تہجد کا پڑھنا ہے، پھر سب سے افضل فجر کی دو رکعت سنت جماعت سے پہلے ادا کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سفر وحضر میں اس سنت کے پڑھنے کا غیر معمولی التزام کرتے تھے، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، "لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مِنْهُ تَعَاهُدًا عَلَى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ"(صحیح بخاری:1169) فجر سے پہلے دو رکعت سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی نوافل کا شدید اہتمام نہیں کیا ہے-       اس روایت سے فجر کی سنت کی اہمیت کا پتا چلتا ہے، لہذا ہمیشہ فجر سے پہلے دو رکعت سنت کا اہتمام کرنا چاہیے، اور اگر کبھی لیٹ ہو جائے...

تراویح کی نماز میں قرآن کیسے پڑھنا چاہیے؟؟

 تراویح کی نماز میں قرآن کیسے پڑھنا چاہیے؟؟ بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين *ازقلم:عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمی محمدی مہسلہ*          قرآن اللہ کا کلام ہے، جو پیارے نبی پر نازل ہوا، ماہ رمضان سے اس کے نزول کا آغاز ہوا، اور یہ قرآن آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا وقفے وقفے سے نازل ہوتا رہا، یہاں تک کہ تیئیس سالہ نبوت کی مدت میں (نزول قرآن کے اعتبار سے) قرآن پائے تکمیل کو پہنچا-        قرآن کا پڑھنا یا پڑاھنا نہایت ہی قابل رشک اور مبارک عمل ہے، اور ماہ رمضان میں قرآن کا پڑھنا اور پڑاھنا یہ تو اعلی درجہ کا نیک کام ہے، کیونکہ قرآن کا رمضان سے بڑا گہرا ربط ہے، یہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، ہمارے اسلاف اس ماہ میں قرآن پاک کی تلاوت کا غیر معمولی اہتمام کرتے تھے، خود پیارے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہر سال ماہ رمضان میں مکمل قرآن جبرئیل امین کو سننے اور سنانے کا اہتمام فرماتے تھے مگر جس سال آپ کی وفات ہوئی آپ نے دو مرتبہ قرآن کا دور جبرئیل امین کو سنایا تھا- قارئین کرام! قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی بڑی فضیلت ہے، لیکن یہ بات یاد رہے کہ قرآن پڑھنے ک...

اہل حدیث کیا ھے اور کون ھیں "؟

اہل حدیث کیا ھے اور کون ھیں "؟ یہ دو لفظوں کا مرکب ہے: (۱) اہل (۲) حدیث اہل کا معنی والا۔ حدیث کا معنی بات اور گفتگو۔ اصطلاحاً: محدثین کی اصطلاح میں حدیث ہی اس قول فعل یا تقریر کوکہتے ہیں جو رسول ﷺ کی طرف منسوب ہو۔(القاموس الوحید) نبی کریم ﷺ کی بات کے علاوہ اللہ کے کلام قرآن مجید کو بھی حدیث کہا جاتا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (اللّٰہُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِیْثِ)(الزمر۔23) ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے بہترین حدیث نازل فرمائی ہے۔ پتہ چلا کہ(قرآن و حدیث‘‘ ان دونوں کو مشترکہ طور پر ’’حدیث‘‘ کہا جاتا ہے۔ اہل حدیث کا معنی قرآن و حدیث والا۔یعنی قرآن و حدیث پر عمل کرنے والا۔ 📌 *اہل حدیث کی ابتداء*📌 نبی کریم ﷺ کی زندگی کے آخری ایام میں حجۃ الوداع کے موقعہ پر وادی منٰی میں خلفاء اربعہ، عشرۃ مبشرہ، حفاظ قرآن ، کاتبین وحی و دیگر ہزاروں صحابہ کے عظیم الشان مجمع کو تلقین کرتے ہوئے کہا تھا’’تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسّکْتُمْ بِہِمَا کِتَابَ اللّٰہ وَسُنَّۃِ نَبِیِّہِ‘‘ ترجمہ:میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے...

مشہور دعائے تراویح کا مختصر جائزہ

مشہور دعائے تراویح کا مختصر جائزہ          ماہ رمضان میں بعد نماز عشاء تراویح کی نماز مع وتر گیارہ رکعت مسنون ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس نماز کی ادائیگی کی بڑی ترغیب دی ہے، اور اس کو گناہوں کی مغفرت کا سبب بتایا ہے، لہذا اس نماز کا مسلمانوں کو غیر معمولی اہتمام کرنا چاہیے، الحمدللہ کثیر تعداد میں مسلمان اس نماز کی ادائیگی میں فرائض سے زیادہ توجہ دیتے ہیں، لیکن صحیح مانو میں تراویح کی نماز مع وتر گیارہ رکعت پڑھنے والے ہی سنت کے اصل پیروکار ہوتے ہیں، حدیث رسول کے سچے شیدائی ہوتے ہیں، وہ اکثر وہی کرتے ہیں جو صحیح احادیث سے ثابت ہو، وہ ہمیشہ بدعات وخرافات سے کوسوں دور بھاگتے ہیں، لیکن ہمارے وہ بھائی جو بیس رکعت تراویح کو اصل سنت سمجھنے والے ہیں ان کے یہاں سنت کا کوئی خاص التزام اور احترام نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ بدعات وخرافات کے عمیق کھائی میں غرق ہیں، بطور مثال ماہ رمضان کے قیام تراویح میں آپ اہل تقلید کے یہاں یہ چیز ضرور دیکھیں گے کہ وہ ہر چار رکعت کے بعد قدرے اطمینان کرتے ہیں، اور اسی دوران ایک دعا پڑھنے کا غیر معمولی اہتمام کرتے ہیں، اور اگ...

قرآن دیکھ کر تراویح کی نماز پڑھا سکتے ہیں؟

قرآن دیکھ کر تراویح کی نماز پڑھا سکتے ہیں؟         ماہ رمضان میں تراویح کی نماز پڑھنا سنت ہے، اس نماز کے پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے، اور بہتر ہے کہ پورے رمضان کی تراویح میں ایک قرآن مکمل ختم کیا جائے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی اچھا حافظ نماز پڑھائے، البتہ اگر حافظ نہ ملے تو کوئی صاحب تقوی وبزرگ شخص قرآن دیکھ کر نماز تراویح پڑھا سکتا ہے، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یہ روایت تعلیقاََ ذکر کی ہے کہ "وَكَانَتْ عَائِشَةُ يَؤُمُّهَا عَبْدُهَا ذَكْوَانُ مِنَ الْمُصْحَفِ"(صحیح بخاری، کتاب الاذان، باب إِمَامَةِ الْعَبْدِ وَالْمَوْلَى) عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ذکوان رحمہ اللہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وغیرہ کو مصحف دیکھ کر نماز پڑھایا کرتے تھے-         اس روایت کی شرح میں مشہور شارح علامہ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں"استدل به على جواز قراءة المصلي من المصحف، ومنعه منه آخرون لكونه عملا كثيرا في الصلاة"(فتح الباری:185/2) اسی روایت سے استدلال کیا گیا ہے کہ مصلی کا قرآن دیکھ کر پڑھنا جائز ہے، مگر بعض لوگوں نے اس سے...

Part 2 بیس رکعت تراویح پڑھنے والوں کے لیے چند نصیحتیں

بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين Part 2 بیس رکعت تراویح پڑھنے والوں کے لیے چند نصیحتیں *ازقلم:عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمی محمدی مہسلہ*               تراویح رمضان المبارک کی ایک عظیم الشان عبادت ہے، تراویح گناہوں کی مغفرت کا باعث ہے، جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایابا"مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"(صحیح بخاری:37) جو ایمان واخلاص اور اجروثواب کی امید کے ساتھ رمضان المبارک میں قیام کرے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں-         تراویح کا مسئلہ ہر رمضان میں موضوع بحث رہتا ہے، آٹھ اور بیس کے متعلق امت مسلمہ میں جو سر پھٹول جاری ہے لگتا ہے کہ یہی رمضان کا سب سے بھاری سبق اور عظیم پیغام ہے جسے دہرانے کی ہر سال ضرورت پیش آتی ہے، بیس پڑھنے والے آٹھ پڑھنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے یہ الگ بات ہے کہ بعض لوگ چپکے سے آٹھ پڑھ کر دبے پاؤں مسجد سے باہر نکل آتے ہیں، جب کہ تراویح نفل نماز ہے، اور الحمدللہ ہم یہ توسع رکھتے ہیں کہ اگر نفل سمجھ کر بیس رکعت تراویح پڑھ ل...

بیس رکعت تراویح پڑھانے والوں کو چند نصیحتیں

بیس رکعت تراویح پڑھانے والوں کو چند نصیحتیں *ازقلم:عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمی محمدی مہسلہ*             نماز تراویح نفل عبادت ہے، اس میں اتنی گنجائش ہے کہ حسب وسعت وطاقت دو، چار، اٹھ، دس، یا بیس رکعت تراویح کی نماز پڑھی جائے، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا"صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً، تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى"(صحیح بخاری:990) رات کی نماز (تہجد اور تراویح) دو دو رکعت ہے، پس جب تم میں سے کسی کو صبح نمودار ہونے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لے یہ اس کے لیے وتر ہو جائے گی جو اس نے نماز ادا کی ہے-        لہذا نفل سمجھ کر بیس رکعت تراویح ادا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، البتہ سنت گیارہ رکعت ہی ہے، مگر جو لوگ بیس پڑھانے والے ہیں، ہم ان سے یہ کہنا چاہیں گے کہ آپ بیس رکعت شوق سے پڑھائیں آپ کو یہ عبادت مبارک ہو، لیکن ہم نے اکثر جو بیس رکعت کا مشاہدہ کیا ہے وہ آپ کی خدمت میں بطور نصیحت عرض کررہے ہیں-      اول: بیس رکعت تراویح رسول سے ث...